ایسا ہے میرا پاکستان ۲۷ مئی، ۲۰۲۲ بروز جمعۃ المبارک آج صبح ایک نہایت خوش گوار اور حیرت انگیز واقعہ پیش آیا۔ صبح سے تاحال اس واقعہ نے اپنے سحر میں جکڑا ہوا ہے ۔ اس واقعہ کی نُدرت اور نَیرنگی نے مجبور کیا کہ میں اپنے تخیلات کو سپرد ِ قرطاس کروں۔ ہوا کچھ یوں کہ میں آفس کی جانب رواں دواں تھا کہ اچانک ٹھوکر نیاز بیگ سے چند قدم پیچھے موٹر بائیک ہچکولے کھانے لگی۔ فوری طور پر یہ احساس دامن گیر ہوا کہ شاید ریزرو(Reserve) لگ چکا ہے لیکن فی الحقیقت پٹرول ختم ہو چکا تھا۔ ٹھوکر نیاز بیگ سے چند قدم آگے جا کر بائیک نے رفتار سست کر دی اور احتجاجاً آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ قرب و جوار میں کسی پٹرول پمپ کے آثار نہ تھے کہ بائیک کی طمانیت و تسکین کا سامان ہو سکتا۔ ابھی موٹر بائیک لب ِسڑک ٹھہری ہی تھی کہ میرے وطن کا ایک عام سا باسی محبت ِ الہٰی کی تلاش وجستجو میں سرگرداں ، طلب ِ رزق کے لیے گامزن رکشے میں سوار میرے پاس آکر ٹھہرا اور نہایت شیریں اور تسلی آمیز لہجے میں مخاطب ہو کر عین سڑک پر رکنے کا سبب دریافت کیا۔ جیسے ہی میں نے پٹرول کے ختم ہونے کی اطلاع دی ، میرے پاکستان کا وہ عام سا شہری متبسم ہونٹوں کے ساتھ رکشے سے اترا اور بغیر کچھ کہے رکشے کی سیٹ کے نیچے سے پٹرول کی ایک بوتل نکال لایا، جس میں کوئی لٹر بھر پٹرول تھا۔ اس فرشتہ صفت انسان نے بوتل میں سے کچھ پٹرول موٹر بائیک کی ٹینکی میں انڈیل دیا ۔ جیسے ہی وہ اس عمل سے فارغ ہوا ، میں نے عرض کی کہ بوتل کا باقی پٹرول بھی ڈال دیجئے اور قیمت وصول کر لیجئے۔ تب اس نے میری جانب دیکھا اور مسکرا کر کہا کہ یہ کسی اور کا حصہ ہے۔ میرے استفسار پر اس نے مزید بتایا کہ اس پٹرول والی بوتل کو میں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا ہوں اور جہاں کوئی مسافر سر ِ راہ پریشان نظر آئے، اس کے ذریعے اس کی مدد کرتا ہوں اور اتنا پٹرول ڈالتا ہوں جس سے کم ازکم وہ پٹرول پمپ تک پہنچ جائے، تاکہ وہ سفر کی صعوبتوں سے نجات پا سکے۔ اس لیے یہ باقی کا پٹرول کسی اور مسافر کا حصہ ہے۔ اس کی اس سوچ نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ دل سے اس کے لیے بے تحاشا دعائیں نکلیں اور اس کی اس سوچ پر اسے سیلوٹ کرنے کا دل کیا لیکن اس وقت تک وہ شکریہ کا موقع دیے بغیر مجھے سوچوں میں گم چھوڑتا ہوا دور جا چکا تھا۔ یہ ہے میرے وطن ِ عزیز پاکستان کے ایک عام سے مزدور کی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے سڑکوں پر پٹرول یا پیسے مانگتے ہوئے پیشہ ور بھکاری تو بہت دیکھے ہوں گے لیکن ایسے فرشتہ صفت انسانیت کے درد سے لبریز انسان شاہد ہی کبھی دیکھنے کا موقع ملا ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس عام سے آدمی کا یہ عمل اسے بارگاہ ِ ربانی میں خاص بنانے کے لیے کافی ہے۔ اس کا یہ عمل ان ہزاروں صاحبان ِ جبہ و دستار سے بدرجہا اعلیٰ و ارفع ہے جو فقط پیشانی پہ بنے محرابوں کو ہی نجات کا سبب گردانتے ہیں جبکہ ان میں بھی کہیں نہ کہیں ریاکاری کا عنصر کار فرما ہوتا ہے۔ اس کا یہ فعل ہزاروں امراء کے صدقات و خیرات سے کہیں بڑھ کر ہے جو لوگوں کو عطا کر کے جتلانا اپنا فرض ِ اولین سمجھتے ہیں، کیونکہ اس کا یہ عمل خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے۔ ایسے رشک ِ ملائک لوگ قلبی تسکین کا باعث ہیں جو فتنہ و فساد اور نفرت و عداوت کی بجائے محبت کے دیپ روشن کرتے ہیں، جو منافقت کی بجائے اتحاد و یگانگت کی فضا قائم کرتے ہیں ۔ شاید یہی وہ قدسی صفات لوگ ہیں جن کی بدولت اس مادیت گزیدہ دور میں بھی نظام ِ ہستی جمو دکی بجائے ارتقاپذیر ہے ۔ انہی اوصاف کے حامل اشخاص کے دم قدم سے آج بھی یہ ملک قائم دائم ہے۔ ایسے ہی اشخاص کے متعلق امیر مینائی نے کہا تھا: خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے اور بقول مولانا الطاف حسین حالی : یہ پہلا سبق تھا کتاب ِ ہدٰی کا کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا وہی دوست ہے خالق ِ دوسرا کا خلائق سے ہے کس کو رشتہ ولا کا یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں اللہ کریم میرے وطن اور اہل ِ وطن سے محبت کرنے والوں کو استقامت عطا فرمائے اور ہر قسم کے شرپسند عناصر سے اپنا خصوصی حفظ و امان عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم الامین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم ﷺ از قلم حافظ مدثر فاروق لیکچرار ،یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیاء، لاہور ڈائریکٹر و چیف ایڈیٹر، بصیرت پبلی کیشنز، لاہور